یہ کب کہا تھا کہ دردِ دل آشکار کرنا

یہ کب کہا تھا کہ دردِ دل آشکار کرنا
یہ کب کہا تھا ہر ایک پر اعتبار کرنا
یہ کب کہا تھا کہ چاہنا اس کو جاں سے بڑھ کر
یہ کب کہا تھا کہ اس پہ سب کچھ نثار کرنا
یہ کب کہا تھا کہ وہ بھی تم سے وفا کرے گا
یہ کب کہا تھا کہ عمر بھر انتظار کرنا
یہ کب کہا تھا جدائی بھی حل ہے مسئلے کا
یہ کب کہا تھا اکیلا پن اختیار کرنا
یہ کب کہا تھا بچھڑ کے تم سے میں جی سکوں گا
یہ کب کہا تھا کہ یوں مجھے بے قرار کرنا
یہ کب کہا تھا کہ سہل ہے عشق کا سمندر
یہ کب کہا تھا کہ اس سمندر کو پار کرنا
یہ کب کہا تھا کہ سچ ہی کہتے رہو ہمیشہ
یہ کب کہا تھا کہ جرم یہ بار بار کرنا
یہ کب کہا تھا کہ دل لگانے کی شے ہے دنیا
یہ کب کہا تھا کہ اس خرابے سے پیار کرنا
یہ کب کہا تھا ہیں سب یہاں دوستی کے قابل
یہ کب کہا تھا خُمار ہر اک کو یار کرنا

سلیمان خمار

Comments