دھوپ کے شیشے میں عکس ماہتاب آنے کو ہے
دھوپ کے شیشے میں عکسِ ماہتاب آنے کو ہے
اک خیال آیا ہوا ہے ایک خواب آنے کو ہے
ہوشیار اے چشمِ تر اب موسمِ دل اور ہے
چوم کر آتش فشاں کو سحاب آنے کو ہے
زلزلے کے باب میں تحقیق ہونی چاہیے
ظلم کی جاگیر پر کس دن عذاب آنے کو ہے
مٹھیاں بھر بھر کے منھ پر خاک ڈالی جائے گی
ایک دن سارے سوالوں کا جواب آنے کو ہے
رتجگے کا سا سماں ہے کیا تمہیں معلوم تھا
آج محفل میں کوئی محرومِ خواب آنے کو ہے
لیاقت علی عاصم
Comments
Post a Comment