جھونکا ہوا کا تھا آیا گزر گیا

جھونکا ہوا کا تھا آیا گزر گیا
کشتی میری ڈبو کے دریا اتر گیا
میرے پیار پہ جو صدقہ میرے یار نے دیا
دیکھا جو غور سے تو میرا ہی سر گیا
بٹتی ہیں اب نیازیں اس کے مزار پر
کچھ روز پہلے جو شخص فاقوں سے مر گیا
مجھے قتل کر کے شاکرؔ رویا وہ بے پناہ
کتنی ہی سادگی سے قاتل مکر گیا
شاکر شجاع آبادی

Comments