اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
برگشتہ یزداں سے کُچھ بھُول ہوئی ہے
بھٹکے ہوۓ انسان سے کُچھ بُھول ہوئی ہے
تارے سے چمک اُٹھے ہیں ساقی کی جبیں پر
شاید مرے ایمان سے کچُھ بُھول ہوئی ہے
تا حد نظر شُعلے ہی شُعلے ہیں چمن میں!
پُھولوں کے نگہبان سے کُچھ بھول ہوئی ہے
شاخُوں پہ چٹکتے ہوۓ غُنچوں کا مُبارک
اس زُلفِ پریشان سے کُچھ بُھول ہوئی
جِس عہد میں لُٹ جاۓ فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سُلطان سے کُچھ بھول ہوئی ہے
ہنستے ہیں مری صُورتِ مفتُوں پہ شگوفے
میرے دلِ نادان سے کُچھ بھول ہوئی ہے
حُوروں کی طلب اور مَے و ساغؔر سے ہے نفرت
زاہؔد!تیرے عِرفان سے کُچھ بُھول ہوئی ہے
ساغؔر صدیقی
Comments
Post a Comment