کبھی وصال کبھی انتظار کرتے ہوئے

کبھی وصال کبھی انتظار کرتے ہوئے
کٹی حیات یہی کاروبار کرتے ہوئے
وہ اپنے ظلم کے فن میں کمالِ فن کی طرف
ہم ان سے رشتئہ دل استوار کرتے ہوئے
بچی جو عمر تو پھر تیرے شہر آئیں گے
ہم اپنے کھوئے ہوئے پل شمار کرتے ہوئے
گزر نہ جائے یہ تجدیدِ عہد کا موسم
مصالحت کی فضا سازگار کرتے ہوئے
زمیں کو زرد لبادہ پسند آتا ہوا
فلک درختوں کو بے برگ و بار کرتے ہوئے

غالب ایاز

Comments