یہ بیج بونے سے بلکل نہيں نکلتی ہے
یہ بیج بونے سے بلکُل نہيں نکلتی ہے
یہ فصلِ شعر تو اپنے تئیں نکلتی ہے
کبھی کبھار مَحبّت کے ہاتھ لگتا ہوں
یہ لاٹری مِری اکثر نہيں نکلتی ہے
وہ راکھ جھاڑے تو سونا نکلنے لگتا ہے
ہم آسمان بھی کَھودیں زمیں نکلتی ہے
ہمارے گاؤں میں اِک جل پَری تو ہے' لیکن
وہ اپنی جھیل سے باہَر نہيں نکلتی ہے
وہ بات جس کا سِرے سے کوئی وجود نہ ہو
وہی تو بات کہِیں سے کہیں نکلتی ہے
تمہارا مسئلہ عزت نہيں ہے ' شہرت ہے
تمہارے دل سے جو دُنیا نہيں نکلتی ہے
یہ روشنی بھی مَحبّت مثال ہے عامی
کہیں جو دفن کریں تو کہیں نکلتی ہے
عمران عامی
Comments
Post a Comment