اچھے خاصے دکھتے ہو بیماری میں
اچھے خاصے دِکھتے ہو بیماری میں
یعنی تم بھی ماہر ہو فن کاری میں
ایک تمہارے نام کی خوشبو زندہ ہے
مر گئی دیمک لکڑی کی الماری میں
جیسے ہی وہ لڑکی آئی لوگوں نے
دُھوپ اُترتے دیکھی ژالہ باری میں
اچھے موسم کی چھٹیاں بھی ضائع کیں
ہم سے عشق ہی کر لیتے بےکاری میں
اور تھے جو درویشی اوڑھ کے بیٹھ رہے
ہم نے دُنیا چھوڑی دُنیاداری میں
پکی عمر میں کچے خواب نہيں آتے
نیند سی بات کرتے ہو بیداری میں
چھوڑ کے جانا پڑ جاتا ہے دشمن بھی
ہجرت کرنا پڑ جاتی ہے یاری میں
درباروں میں آگ لگانا سہل نہیں
دیپک راگ بھی شامل کر درباری میں
تم اِس دل میں ایسے رہتے ہو عامی
سونا جیسے پیتل کی الماری میں
عمران عامی
Comments
Post a Comment