راز حیات و موت بڑا عاشقانہ ہے

رازِ حیات و موت، بڑا عاشقانہ ہے
عُنوان دو ہیں اور مُکمل فسانہ ہے



  
ہمدردیوں کا ذکر کرُوں اِن سے یا نہیں
ظاہر پرست دوست ہیں، دُشمن زمانہ ہے
مَرعُوب کر سکے گا نہ مُجھ کو جمالِ دوست
میرا مزاج، میری نظر باغیانہ ہے
بیٹھا ہُوں بجلیوں کا تصوّر کیے ہُوئے
گہوارہء جمال مِرا آشیانہ ہے
ترسا رہے ہو کیوں خَس و خاشاک کے لیے
میرا چمن ہے اور مِرا آشیانہ ہے

شکیب جلالی

Comments