Posts

ہار کوں اپنڑیں سینے لینداں بچپن توں

مرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا

بارش میں تنہا بھیگو، یا بھیگو یار کے ساتھ

پرچم کشا جمال ہے شہر حبیب میں

اچھے خاصے لوگوں پر بھی وقت اک ایسا آ جاتا ہے

حاصل نہیں فنکار کو توقیر ابھی تک

زخم سہے مزدوری کی

میں تری راکھ سے ایجاد کروں گا خود کو

کچھ پیار محبت کے صدموں، کچھ زہر بھرے پیمانوں سے

لفظ بڑھے اور وعدے پھیلے دل کی حکایت ختم ہوئی

صراط مستقیم آیا، نظر آیا، نہیں آیا