Posts

اب اپنی آنکھ میں مرے اشکوں کو تھام کر

مرے شوق جستجو کا کسے اعتبار ہوتا

آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی

انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا

اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی

اک نظر سوئے بام کر چلیے

یوں تو مے خانے میں مے کم ہے نہ پانی کم ہے

دل ہو حساس تو جینے میں بہت گھاٹا ہے

فضا میں رنگ نہ ہوں آنکھ میں نمی بھی نہ ہو

سچ کبھی ہو گا تمہارا خواب کیا

کوئی موسم بھی ہم کو راس نہیں