Posts

کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے میں نے

کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہو

لگے تھے لوگ اسے ہوشیار کرنے میں

جتنی راز داری سے رابطے بڑھاتی ہے

عجیب سے خمار میں پڑا رہا مَرا رہا

میں جب اس کےلئے بیتاب ہوا کرتا تھا

ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے

ہوش رہتا نہیں جوانی میں

شاپنگ

دنگ ہیں سب دیکھ کر آدھا ادھر آدھا ادھر

سچے پیار جہان توں ٹر گئے