Posts

وہ بے وفا ہے ہمیں یہ ملال تھوڑی ہے

غرور و کذب و ریا کل من علیھا فان

کچھ ایسے زخم ہیں جو عمر بھر رفو نہ ہوئے

بارش کی ہر اک بوند سے اس گیلے بدن پر

حالے پیار دی عادی کئے نی

چج دی جے کوئی گل سمجھاوے بسم اللہ

جیسے ہانڈی سے نکلتی ہوئی شوں ہے یوں ہے

ہم کیوں یہ مبتلائے بے تابی نظر ہیں

سنا ہے اس کو سخن کے اصول آتے ہیں

نور سرکار‏ نے ظلمت کا بھرم توڑ دیا

عشق کی عظمت نہ ہرگز جیتے جی کم کیجئے