Posts

ابر میں برق کے گلزار دکھاتے اس کو

خلشِ ہجرِ دائمی نہ گئی

عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے

عشق میں مقصود اصلی کو مقدم کیجئے

اب شہر بدر ہو کر دیوانہ کدھر جائے

تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی

گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے

وہ سر خوشی دے کہ زندگی کو شباب سے بہرہ یاب کر دے

چھڑا کر اپنا دامن پاک دامنی نہیں جاتی

شام ڈھلی اور پیڑ کا سایا بول پڑا