Posts

کہنے کو تو ہر بات کہی تیرے مقابل

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

اے رسم بغاوت کے گرفتار سپاہی

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو

کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا

اب مجھ کو رخصت ہونا ہے کچھ میرا ہار سنگھار کرو

گلاب خواب دوا زہر جام کیا کیا ہے

سر پر سات آکاش زمیں پر سات سمندر بکھرے ہیں

خط منھ پہ آئے جاناں خوبی پہ جان دے گا

عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے