Posts

رکھ لے مان جُو ہویا

سرگوشی

شریر لڑکا

سخن میں حسن کی خوشبو اتار پھول بنا

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا

کوئی ادا شناس محبّت ہمیں بتائے

خوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

بہت مسلے گی پیسے گی بھی ، توڑے گی محبت

کسی بھی کم نظر کا احترام مت کیا کر

مرے خلاف ان میں باہمی مشورے ہوئے ہیں

سمیٹ لوں تو فقط دل کے استعارے میں ہے