Posts

ہے مئے گل گوں کی تیرے یہ گلابی ہاتھ میں

رنج اور رنج بھی تنہائی کا

تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا

ہجر کی را توں میں ننھا سا ایک دیا

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب

درگزر کرنے کی عادت سیکھو

کیسی وفا و الفت کھاتے عبث ہو قسمیں

نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن

یوں تو کہنے کو تھا دل کی ترجمانی کا سفر

گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی