Posts

مرزا غالب

بندے کو خدا کیا لکھنا

کبھی تھکن کے اثر کا پتہ نہیں چلتا

مظہر کبریا محمد ہیں

ایک سوال

ہوائے دور مئے خوش گوار راہ میں ہے

آنکھوں میں‌ تیری بزم تماشا لئے ہوئے

تیرے جانے سے زیادہ ہیں نہ کم پہلے تھے 

آہٹ سی ہوئی تھی نہ کوئی برگ ہلا تھا

جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورت زر رکھ لیا

نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے