Posts

ہمیں سفر کی اذیت سے پھر گزرنا ہے

طے ہوں گے کس طرح یہ مراحل کہا نہ جائے

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتا 

اس سے پہلے کہ کوئی ان کو چرا لے گن لو

جرم انکار کی سزا ہی دے

ریگ دیروز

اک دعا نے بچا لیا ہے ہمیں

ان کی نظریں راز الفت پا گئیں

رنگ و رس کی ہوس اور بس

جیسے میں دیکھتا ہوں لوگ نہیں دیکھتے ہیں