Posts

ہم ڈوبنے والے موجوں کی توہین گوارا کیا کرتے

شکستہ رابطوں کو راستی کا حکم ملے

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے

خمار شب میں اسے سلام کر بیٹھا

سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے

وحشت تھی مگر چاک لبادہ بھی نہیں تھا

مرے چراغ کو یہ وہم کھائے جاتا ہے

روپ بدل کر جانے کس پل کیا بن جائے مائے نی

نذر سودا ، فیض احمد فیض

نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی

عمر انکار کی دیوار سے سر پھوڑتی ہے