Posts

قبراں اڈیک دیاں مینوں جیوں پتراں نوں ماواں

اس قدر تیری حرارت مرے ایمان میں آئے

قسمت نوع بشر تبدیل ہوتی ہے ہے یہاں

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی

کوئی ہو جائے مسلمان تو ڈر لگتا ہے

رخ مصطفیٰ کو دیکھا تو دیوں نے جلنا سیکھا

میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں

دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئی

ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیا

یکایک مجھ دِسا یک شہ جواں آ سوار تازی کا

مٹی تھی خفا موج اٹھا لے گئی ہم کو