Posts

یہ مجھ سے کس طرح کی ضد دل برباد کرتا ہے

شرمندہ ہم جنوں سے ہیں ایک ایک تار کے

بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسو

بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک

تو ہی کچھ اپنے سر پہ نہ یاں خاک کر گئی

فرصت کا وقت ڈھونڈ کے ملنا کبھی اجل

بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

آبلے مٹی پسینہ جیسے ویرانوں کا بوجھ

ہنگامہ بہ دوش آئے طوفاں بہ کنار آئے

آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے