Posts

درد ہو دکھ ہو تو دوا کیجے

سر کو تن سے مرے جدا کیجے

کس سے اظہار مدعا کیجے

ساقی پی کے ترے ہاتھ سے مستانہ بنوں

اس سمت مجھ کو یار نے جانے نہیں دیا

مسافر کے رستے بدلتے رہے

آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم

رات بھر وہ شمع محفل بن کے محفل میں رہے

جس گھڑی آپ کو دیکھا سائیں