جس گھڑی آپ کو دیکھا سائیں
جس گھڑی آپ کو دیکھا سائیں !
ہو گیا من میں اجالا سائیں !
پا لیا اپنا مقدر، یعنی
بس یہی آپ کا ہونا سائیں !
میں نے یہ رمز سمجھنی ہے حضور !
وقت بنتا ہے کسی کا، سائیں؟
رات ہر روز بتاتی ہے مجھے
نیند اور خواب کا رشتہ سائیں !
مجھ کو اس بات پہ کامل ہے یقیں
دور کرتا ہے اندھیرا، سائیں !
سانس کے ساتھ عبادت کے لیے
نام لیتا ہوں تمہارا سائیں
مجھ کو اظہار کی نعمت ہو عطا
مرے مالک، مرے مولا سائیں !
ذکر جب آپ کے جانے کا سُنو
منہ کو آتا ہے کلیجہ سائیں !
چند لمحوں کی سکونت ہے اگر ؟
کیا زمانے سے الجھنا سائیں !
پی لیا جامِ محبت جب سے
میرا نشہ نہیں اُترا سائیں !
اک نظر دیکھ کے اچھا کر دیں
میرے احساس کا حلیہ سائیں !
درس ملنا ہے محبت کا سعید
لگ گیا عشق کا خیمہ سائیں !
مجھ کو ملتا ہے ہمیشہ ہی سعید
آسرا تیری دعا کا سائیں
مبشر سعید
Comments
Post a Comment