Posts

دل کو محروم فغاں رکھیو مت

آخر ساری دنیا سے ہم تیرے بہانے روٹھ گئے

کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے

شہرِ افسوس کے شکستہ کھنڈر

شبنم شکیل ، نظم

جنوں ہی ایسا تھا دل سے جو سر میں آ گیا تھا

میری ہر ایک صبح کو روز حساب کر دیا

تھپکیاں دے کے امنگوں کو سلانا تھا ہمیں

وصل کے بعد کی تنہائی بھی اک دنیا ہے

آدمی ہے نہ آدمی کی ذات

اس دنیا میں اپنا کیا ہے