Posts

ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے

شعر

کنار آب کھڑے اس طرح نہ گن مرے دوست

جنوں میں مست بھی سونے لگے سکون کی نیند

نور سے نور ، نور نور ہوا

ادنیٰ سی رعایت میں بھی ناکام رہا ہو

خانہ بدوش نظم

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدا