Posts

بن گئے ہیں گلے کا ہار ترے

دل سے یوں دھڑکنیں الجھتی ہیں

اس ایک پل کی تلاش ہے شب و روز میں مہ و سال میں

پردے سے اک جھلک جو وہ دکھلا کے رہ گئے

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا

ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے

پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا

ایک سے ایک ہے رستم کے گھرانے والا

اک عذاب ہوتا ہے روز جی کا کھونا بھی

وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ

تری جفا پہ گمان وفا کیا میں نے