تری جفا پہ گمان وفا کیا میں نے
تری جفا پہ گمانِ وفا کیا میں نے
گناہِ عشق کی یوں جھیل لی سزا میں نے
رہِ وفا میں لٹا کر متاعِ قلب و جگر
کیا ہے تیری محبت کا حق ادا میں نے
ہجومِ غم میں نکل آئی ہے جو آہ کبھی
توکی ہے بے اثری کی بھی پھر دعا میں نے
وفا ہو یا کہ جفا جو بھی مل گیا تم سے
ہر اک کو سینے سے اپنے لگا لیا میں نے
جلا کے دل میں تری شمعِ آرزو اے دوست
ہر اک چراغ تمنّا بجھا دیا میں نے
کسی کی چشم ندامت سے پالیا اخترؔ
تمام حسرت ناکام کا صلہ میں نے
اختر مسلمی

Comments
Post a Comment