Posts

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

اس نے کہا ہم آج سے دِل دار ہو گئے

اس نے کہا کہ ہم بھی خریدار ہو گئے

ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل

غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے ہیں

کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی

اسی سہارے پہ دن ہجر کا گزارا ہے

رات اس کے سامنے میرے سوا بھی میں ہی تھا

کبھی بلقیس کبھی شہر سبا لگتی ہے

اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا

اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو