اس نے کہا ہم آج سے دِل دار ہو گئے

اُس نے کہا ہم آج سے دِل دار ہو گئے
سب لوگ اُس کے دِل کے طلبگار ہو گئے
اُس نے کہا کہ ایک حسیں چاہیے مُجھے
سارے ہی لوگ زینتِ بازار ہو گئے
اُس نے کہا کہ صاحبِ کردار ہے کوئی
اِک پل میں لوگ صاحبِ کردار ہو گئے
اُس نے کہا کہ مُجھے مِری تعمیر چاہیے
جو خِشت و سنگ بار تھے مِعمار ہو گئے
اُس نے کہا یہاں پہ کوئی باخبر بھی ہے
جو بےخبر تھے وہ بھی خبردار ہو گئے
اُس نے کہا کہ طالبِ دیدار ہے کوئی
اندھے بھی اُس کے طالبِ دیدار ہو گئے
اُس نے کہا کِسی کو مِرا وصل چاہیے
اِنکار کے حرُوف بھی اِقرار ہو گئے
اُس نے کہا کہ قافلہء سالار ہے کوئی
سارے ہی لوگ قافلہء سالار ہو گئے
اُس نے کہا ذرا سا مُجھے حُسن چاہیے
سارے ہی شہر حُسن کے بازار ہو گئے
اُس نے کہا کہ تیزیِ رفتار ہے کہیں
کچھوے عدیمؔ صاحبِ رفتار ہو گئے

عدیم ہاشمی

Comments