ہم سے پہلے یہی حالات رہے ہوں گے کیا

ہم سے پہلے یہی حالات رہے ہوں گے کیا
لوگ پھر اُس پہ یوں ہی ساتھ رہے ہوں گے کیا
ایک تلوار کے رستے میں چلا آیا تھا
تم بتاؤ کہ مرے ہاتھ رہے ہوں گے  کیا؟
جب زمیں رہ نہ سکی ایک بھی دن میرے بعد
پھر مرے بعد سموات رہے ہوں گے  کیا؟
یہ جو پتھرائی ہوئی آنکھیں لیے پھرتا ہے
اس  کے ہونٹوں پہ سوالات رہے ہوں گے کیا
جن مقامات سے ہوتی ہوئی تم آئی ہو
پہلے جیسے وہ مقامات  رہے ہوں گے کیا
یہ جو محتاط رویوں کا سبق دیتے ہیں
نو جوانی میں بھی محتاط رہے ہوں گے کیا
حسن ظہیر راجا

Comments