رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہوگئے

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہوگئے
روشنی میں آئے تو ہم لوگ اندھے ہوگئے
آنگنوں میں دفن ہوکر رہ گئی ہیں خواہشیں
ہاتھ پیلے ہوتے ہوتے رنگ پیلے ہوگئے
بھیڑ میں گم ہوگئے ہم اپنی انگلی چھوڑ کر
منفرد ہونے کی دھن میں اوروں جیسے ہوگئے
زندہ رہنے کیلئے کچھ بے حسی درکار تھی
سوچتے رہنے سے بھی کچھ زخم گہرے ہوگئے
اس لئے محتاط ہوں اپنی نموداری سے میں
پھل تو پھل مجھ پیڑ کے پتے بھی میٹھے ہوگئے

اظہر فراغ

Comments