مجھے مشکل سے پہچانا ہے اس نے
مجھے مشکل سے پہچانا ہے اس نے
اسی صدمے سے مر جانا ہے اس نے
وہ جتنا بے سر و ساماں گیا ہے
بہت کچھ ساتھ لے آنا ہے اس نے
جو طے کردہ ہے وہ بھی طے نہیں ہے
ابھی تخمینہ لگوانا ہے اس نے
ہے بس دو چار پل پتوں پہ شبنم
جھکی شاخوں سے ٹکرانا ہے اس نے
کنواں کھدوایا جانا تھا جہاں پر
وہاں مینار بنوانا ہے اس نے
نئے رستوں کی تھوڑی جستجو ہے
گزر گاہوں کو الجھانا ہے اس نے
اظہر فراغ
Comments
Post a Comment