وہ میرے حصے میں آ گئی ہے

وہ میرے حصے میں آ گئی ہے
یہ دنیا سکتے  میں آ گئی ہے
کِسے رہائی کی اب ضرورت
بہار پنجرے میں آ گئی  ہے
نہیں وہ ایسے کبھی نہ کہتی
کسی  کے کہنے میں آ گئی ہے
یہ لوگ ہیں کچھ الگ طرح کے
تُو کیسے حلیے میں آ گئی ہے
جو نظم ہوتی نہ کُل غزل میں
وہ ایک مصرعے میں آ گئی ہے
یہاں نہیں کوئی تجھ کو خطرہ
مرے علاقے میں آ گئی  ہے
یہ سارے جھولے جو رک گئے ہیں
یہ کون میلے میں آ  گئی ہے؟
نہیں ہے اب خیر برتنوں کی
وہ پھر سے غصے میں آ گئی ہے
حسن ظہیر راجا

Comments