زمیں بھی ایک آیت آسماں بھی ایک آیت ہے
زمیں بھی ایک آیت، آسماں بھی ایک آیت ہے
مرے نزدیک یہ ابرِ رواں بھی ایک آیت ہے
نشانی ہے بدلتے موسموں میں اس کے ہونے کی
ہواے تیز میں برگِ خزاں بھی ایک آیت ہے
خزاں کی دوپہر ہے اور بیٹھا سوچتا ہوں میں
مسلسل خاک ہوتا یہ مکاں بھی ایک آیت ہے
فضاے دم بخود میں سانس لیتا ہے کوئی ثروت
مجھے تو جھٹ پٹے کا یہ سماں بھی ایک آیت ہے
ثروت حسین
Comments
Post a Comment