پہلے تو اپنے آپ سے جھگڑا کیا گیا

پہلے تو اپنے آپ سے جھگڑا کِیا گیا
پھر اختیار عشق کا رستہ کِیا گیا

حاصل نہ اعتدال کا عرصہ ہوا ہمیں
صحرا کِیا گیا کبھی دریا کِیا گیا

میری تو سانس سانس پہ چھڑکے گئے ہیں زخم
میرے تو گھونٹ گھونٹ کو کڑوا کِیا گیا

ورنہ تو زندگی نے گزرنا نہیں تھا یوں
وہ تو کسی کی یاد پہ تکیہ کِیا گیا

پھر یوں ہوا کہ شعروں میں در آئی چاشنی
پھر یوں ہوا کہ میر کو قبلہ کِیا گیا

یہ اور بات خود کو نہیں پا سکے مگر
تا دیر اپنے آپ کا پیچھا کِیا گیا

وہ شخص خیر ہوتا زیادہ تو کیا حسن
مشکل سے کھینچ تان کے پورا کِیا گیا

حسن ظہیر راجا

Comments