کبھی بلقیس کبھی شہر سبا لگتی ہے
کبھی بلقیس کبھی شہرِ سبا لگتی ہے
شاعری تختِ سلیماں سے سوا لگتی ہے
میں کسی اور ہی عالم کی خبر لاتا ہوں
چمنستاں میں اگر آنکھ ذرا لگتی ہے
کس کو دیکھا ہے کہ اطراف کی ساری دنیا
آئینہ خانۂ انداز و ادا لگتی ہے
یورشِ وقت، اُجڑتے نہیں دیکھیں ہم نے
بستیاں جن کو فقیروں کی دعا لگتی ہے
ہمہ تن گوش ہوں مہمان سرا میں ثروت
ہر اک آہٹ مجھے آوازِ درا لگتی ہے
ثروت حسین
Comments
Post a Comment