Posts

ابو از گلزار

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

اپنوں کے ستم ان کی وفا یاد کریں گے

ہم بتوں کو جو پیار کرتے ہیں

کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں

اس کی باتیں تو پھول ہوں جیسے‬

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

تیرے خیال میں کچھ ایسے گم رہا برسوں

رخصت از گلزار

ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میں

نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتا