Posts

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

مچھلیاں جال مچھیرے دریا

محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نے

گھٹا بہار دھنک چاند پھول دیپ کلی

کہاں کا عشق کہاں کی محبتیں مرشد

ہم تو نالے بھی کیا کرتے ہیں آہوں کے سوا

غصے میں جو نکھرا ہے اس حسن کا کیا کہنا

یہ ہم جو ہجر میں اس کا خیال باندھتے ہیں

آپ کو نظر لگی ہے

قصد

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں