معلُوم ہے جناب کا مطلب کچھ اَور ہے 



معلُوم ہے جناب کا مطلب کچھ اَور ہے 
 میری لُغَت میں آب کا مطلب کچھ اَور ہے
تُو نے بہت خراب کیا ہے مُجھے مگر
 اس شعر میں خراب کا مطلب کچھ اَور ہے
یہ عارضی طلَب ہے، اِسے عشق مت سمجھ 
 لمحاتی اضطراب کا مطلب کچھ اَور ہے
تسلیم ہے کہ مَیں نے دیا ہے اُسے گُلاب
 لیکن یہاں گُلاب کا مطلب کچھ اَور ہے
صحرا نے کر تو دی ہے مُجھے گھر کی پیشکش
 اس خانماں خراب کا مطلب کچھ اَور ہے
تعبیر زندگی ہی بتائی گئی مُجھے
 حالانکہ میرے خواب کا مطلب کچھ اَور ہے
صحرا کے ہاں بھنور کے معانی ہیں مُختلف
دریا کے ھاں سراب کا مطلب  کچھ اَور ہے
فرہنگِ عشق دیکھ کے آیا ہوں مَیں ابھی
 اُس میں گُناہ ثواب کا مطلب کچھ اَور ہے
اس فتنہ گر ہجُوم کو سمجھائیے، جناب 
 قوموں میں انقلاب کا مطلب کچھ اَور ہے
سچ ہے کہ ماہتاب سے کرتا ہوں عشق مَیں
 ہاں لفظِ ماہتاب کا مطلب کچھ اَور ہے
گو وصل کے سوال پہ انکار ہوگیا
 خوش ہوں کہ اس جواب کا مطلب کچھ اَور ہے
ہوتی ہے اَور طرح غریبوں کی چھان بین
 شاہوں کے احتساب کا مطلب کچھ اَور ہے
سوہنی کے ساتھ ڈُوب گیا مَیں چناب میں
 لیکن یہاں چناب کا مطلب کچھ اَور ہے
ناراض عشق ! حُسن کی مجبوریاں سمجھ 
 محفل میں اجتناب کا مطلب کچھ اَور ہے
ساقی کی پیشکش نہیں محدُود جام تک
 اس دعوتِ شراب کا مطلب کچھ اَور ہے
کچھ اَور ہے کتاب کو کرنا کسی کے نام
 کتبے پہ انتساب کا مطلب کچھ اَور ہے
مقصد فقط چُھپانا نہیں خدّوخال کو 
 فارس میاں ! حجاب کا مطلب کچھ اَور ہے
رحمان فارس

Comments