مُجھے بھلائے کبھی یاد کرکے روئے بھی
مُجھے بھلائے کبھی یاد کرکے روئے بھی
وہ اپنے آپ کو بکھرائے اور پروئے بھی
شمار ہو نہ سکے ہٙم چمکنے والوں میں
بدن بھی مٙلتے رہے روز کپڑے دھوئے بھی
بہت غبار بٙھرا تھا دلوں میں دونوں کے
مگر وہ ایک ہی بستر پہ رات سوئے بھی
بہت دنوں سے نہائے نہیں ہیں آنگن میں
کبھی تو راہ کی بارش ہمیں بھگوئے بھی
یہ تم سے کس نے کہا رات سے میں ڈرتا ہوں
ضرور آئے مرے بازوؤں میں سوئے بھی
یقین جانیے احساس تک نہ ہوگا ہمیں
نسوں میں سوئیاں کوئی اگر چُبھوۓ بھی
بشیر بدر
Comments
Post a Comment