Posts

عزیز فیصل مزاحیہ اشعار

قافیہ بن گیا جیسے ہی نکالی سگریٹ

حسین تجھ پہ کہیں کیا سلام ہم جیسے

میں بعد مرنے کے نوحہ خوانی کا کیا کروں گا

میاں شعر کہنا جو آسان ہوتا

پسِ نقاب رخ لاجواب کیا ہوتا

وہ نہ جانے گیا کدھر تنہا

آپ کو دربار کی عادت ہے درباری ہیں

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

پہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا

بھنگڑے پہ اور دھمال پہ بھی ٹیکس لگ گیا

گرمی جو آئی گھر کا ہوا دان کھل گیا

جس شخص کی اوپر کی کمائی نہیں ہوتی

تمہارے پھپھا وہ گنجے والے جو لے گئے ادھار کنگھی

اسی پرچے میں خبر ہے مری رسوائی کی

رمضان کی سوغات ہیں یہ یار پکوڑے

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی