Posts

قصد

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے

کوئی دیوانہ کہتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے

اب کون یہاں کھول کے لب منکر دیں ہو

ایسے ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس

تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا

لفظ دیوار پر اشعار

وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے