Arif imam ki do Ghazleen
"عارف امام " کی دو غزلیں
.
آسماں ہے، نہ زمیں ہے، نہ خلا، کچھ بھی نہیں
عالمِ ہست نہونے کے سوا کچھ بھی نہیں
میں یہ سمجھا مرے ہونے سے بہت کچھ ھوگا
میں یہ جانا مرے ہونے سے ہوأ کچھ بھی نہیں
میں تو پہلے ہی بدن اپنا اُتار آیا تھا
عشق کی آگ میں کُودا تو جلا کچھ بھی نہیں
غلغلہ تھا مرے پُرکھوں کی وراثت کا بہت
ہاں خزانہ تھا! مگر اس میں بچا کچھ بھی نہیں
سادے کاغذ پہ بہت رنگ انڈیلے لیکن
اپنی تصویر بنانے سے بنا کچھ بھی نہیں
ہے کسی عکس کی غفلت سے تماشہ ورنہ
دہر کے آئنہ خانے میں دھرا کچھ بھی نہیں
کوئی دھوکہ ہے مری بے سروسامانی بھی
یا تو سب کچھ ہی مرے پاس ہے یا کچھ بھی نہیں
اُس کے دیکھے سے نشہ، بات جو کرلے تو شفا
اپنے پلّے میں تو دارو نہ دوا کچھ بھی نہیں
اُس علاقے میں کوئی رات گزار آیا ہے
جس علاقے میں بجز ذاتِ خدا کچھ بھی نہیں
یہ الگ بات کہ دریا کو ملی موجِ دوام
ورنہ مشکیزے کو دریا سے ملا کچھ بھی نہیں
میں نے تقریر سے شمشیر کا منہ توڑ دیا
تم تو کہتے تھے مرے بس میں رہا کچھ بھی نہیں
(فقیر عارف امام)
------------------------------------------------------------------
کوئی مُشکل ھو نکل جاتا ھُوں آسانی سے
مَیں ھُوں آسودہ زرِ شُکر کی ارزانی سے
آئینہ عکس مرا جزب تو کرتا ھے مگر
ٹُوٹ جاتا ھے تحیر کی فراوانی سے
رقص کرتے میں جو تلووں سے لہو بہتا ھے
کل مصلے پہ بہا تھا مری پیشانی سے
مَیں بگولے کی طرح کرتا رھا اپنا طواف
فائدہ کُچھ تو ھُوا دشت کی ویرانی سے
مُجھ کو ھرگز نہیں ملبوسِ دریدہ کا خیال
شرم آتی ھے فقط زخم کی عُریانی سے
عجز و عرفان و یقیں۔ مستی و جزب و حیرت
سب یہ سامان مِلا بے سروسامانی سے
آتشِ خامہ سے کاغذ نہ سُلگنے لگ جاۓ
خوف آتا ہے ترے طرزِ سُخن دانی سے
اس لئے پیتا ھے ٹھکرایا ھُوا پانی فقیر
آنکھ میں خُون اُترتا ھے اسی پانی سے
ریگِ مقتل پہ عجب تھا وُہ مرا سجدہءِ عشق
چشمِ خنجر نے بھی دیکھا مُجھے حیرانی سے
اب مرا سائیں مرا ھاتھ پکڑ کر لے جائے
تھک گیا ھُوں مَیں خُود اپنی ھی نگہبانی سے
حملہ آور ھے پھر آسیبِ تکبر مولا
دُور رکھیو مُجھے اس غولِ بیابانی سے
جس کے در پر ھمہ دم رزقِ یقیں بٹتا ھے
بھیک مانگی ھے اسی مردِ خُراسانی سے
عارف امام صآحب
Comments
Post a Comment