کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
کیا بھلا مجھکو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہو نٹوں پر
ڈوب کر بھی تیرے دریا سے میں پیاسا
جب کبھی تجھکو پکارا میری تنہائ نے
بو اڑی پھول سے تصویر سے سایہ نکلا
کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں
میں تیری کھوج میں تجھ سے بھی پرے جا نکلا
توڑ کر دیکھ لیا آئینہ دل تو نے
تیری صورت کے سوا اور بھلا کیا نکلا
مجھ سے چھپتا ہی رہا تو مجھے آنکھیں دے کر
میں ہی پر دہ تھا اٹھائیں تو تماشہ نکلا
نظر آیا تھا سربام مظفرؔ کوئی
پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایہ نکلا
مظفرؔ وارثی
Comments
Post a Comment