میں جاں بہ لب تھا پھر بھی اصولوں پہ اَڑ گیا
میں جاں بہ لب تھا پھر بھی اصولوں پہ اَڑ گیا
بجھتا ہوا چراغ ہواوٓں سے لڑ گیا
خالی پڑے ہوےٓ ہیں پرندوں کے گھونسلے
ایسی ہوا چلی کہ ہر اِک پیڑ جھڑ گیا
آتے ہیں لوگ اپنے خدوخال ڈھونڈنے
یہ کون میری آنکھ میں آئینے جڑ گیا !
کس کس کا ساتھ دے کوئی میلے کی بھیڑ میں
پھر یوں ہُوا کہ وہ بھی اچانک بچھڑ گیا
میں نے قدم بڑھاےٓ جو صحرا کی دُھوپ میں
گھبرا کے میرا سایہ میرے پاوٓں پڑ گیا
اُس آئینے کے عکس ہی ٹیڑھے تھے سب کے سب
مجھ کو یہ وہم تھا مرا چہرہ بگڑ گیا
محسؔن دلِ غریب کی ویرانیاں تو دیکھ
کیسا نگر تھا جو تِرے ہاتھوں اُجڑ گیا
محسن نقوی
Comments
Post a Comment