بدن کی رمز سمجھ ' رُوح کا اشارہ سمجھ

بدن کی رمز سمجھ ' رُوح کا اشارہ سمجھ
مجھے سمجھ ' نہ سمجھ ' دُکھ مِرا خدا را سمجھ
تجھے ہم اور کسی کا نہ ہونے دیں گے کبھی
تُو بھا گیا ہے ہمیں ' خود کو اب ہمارا سمجھ
جو تِیرگی میں تجھے کچھ دِکھائی دیتا نہیں 
سمجھ میں آئے تو اِس کو بھی اک نظارہ سمجھ
نہیں تو وقت ہی سمجھائے گا تجھے اک دن
مَیں چاہتا ہوں ' مِری بات کو دُو بارہ سمجھ
کہ مَیں تو اپنے بھی کچھ کام آ نہیں پایا
تجھے یہ کس نے کہا تھا ' مجھے سہارا سمجھ
یہ دل سے آنکھ تک آیا ہُوا جو آنسو ہے
یہ تیرگی میں چمک جائے تو ستارہ سمجھ
یہ کار گاہِ طلِسمات ہے ' یہاں سید !
خسارہ نفع سمجھ ' نفع کو خسارہ سمجھ
سید فضل گیلانی

Comments