تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی
تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی
یہ تیری طرح مجھ سے تو شرما نہ سکے گی
میں بات کروں گا تو یہ خاموش رہے گی
سینے سے لگا لوں گا تو یہ کچھ نہ کہے گی
آرام وہ کیا دے گی جو تڑپا نہ سکے گی
تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی
آنکھیں ہیں ٹھہری ہوئی چنچل وہ نگاہیں
یہ ہاتھ ہیں سہمے ہوئے اور مست وہ بانہیں
پرچھائی تو انسان کے کام آ نہ سکے گی
تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی
ان ہونٹوں کو فیاض میں کچھ دے نہ سکوں گا
اس زلف کو میں ہاتھ میں بھی لے نہ سکوں گا
الجھی ہوئی راتوں کو یہ سلجھا نہ سکے گی
تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی
(فیاض ہاشمی)
Comments
Post a Comment