ہائے رے اُن کی خوشی، ہائے رے ارماں اُن کا
دِن قیامت کا ڈَھلا ، سب نے مُرادیں پائیں
رہ گیا دیکھ کے مُنہ ، تابعِ فرماں اُن کا
چاہیں دَوزخ میں اُتاریں، کہ جگہ خُلد میں دَیں
دخل کیا غیر کو ؟گھر اُن کے ہیں ، مہماں اُن کا
چاک کرنے کا ہے اِلزام، مِرے سر ناحق
ہاتھ اُن کے ہیں، ہم اُن کے ہیں، گریباں اُن کا
تُو نے دِیدار کا ، جِن جِن سے کِیا ہے وعدہ !
ہائے رے اُن کی خوشی، ہائے رے ارماں اُن کا
شاؔد عظیم آبادی
Comments
Post a Comment