اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا

اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا
وہ چاہتا تو میرے ساتھ چل بھی سکتا تھا
وہ شخص, تو نے جسے چھوڑ نے میں جلدی کی
ترے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا
وہ جلد باز, خفا ہو کےچل دیاورنہ
تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا
انانے ہاتھ اٹھانے نہیں دئیے ورنہ
میری دعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا
تمام عمر تیرا منتظر رہا رومی
یہ اور بات کہ رستہ بدل بھی سکتا تھا
ندیم رومی

یہ غزل محسن نقوی صاحب سے غلط منسوب ہے

Comments