حضور ﷺ نعت کا مطلع سجا دیا جائے
حضور ﷺ نعت کا مطلع سجا دیا جائے
حضور ﷺ عرض ہے چہرہ دکھا دیا جائے
حضور ﷺ سائیں حسن اور حسین کا ہوں مرید
حضور ﷺ مولا علی سے ملا دیا جائے
حضور ﷺ مجھ کو محبت ہے سائیں حمزہ سے
حضور ﷺ آپ کا نوکر بنا دیا جائے
حضور ﷺ سین کی آواز میں سرور بہت
حضور ﷺ شین کا مخرج بھلا دیا جائے
حضور ﷺ حضرتِ انصار کا چلے لنگر
حضور ﷺ ہم کو بھی کھانا کھلا دیا جائے
حضور ﷺ حسن پہ مغرور ہیں یہاں کے حسین
حضور ﷺ عرض ہے پردہ اٹھا دیا جائے
حضور ﷺ آپ کی صحبت کو ہم ترستے ہیں
حضور ﷺ وقت کو پیچھے ہٹا دیا جائے
حضور ﷺ آپ کے قدموں میں سر رکھا میں نے
حضور ﷺ عرض ہے سجدہ سکھادیا جائے
حضور ﷺ تنگ بہت ہیں فقیر دنیا میں
حضور ﷺ تختِ حکومت گرا دیا جائے
حضور ﷺ عشق پہ لوگوں کا اعتراض ہوا
حضور ﷺ اب تو انہیں بھی جلا دیا جائے
حضور ﷺ شہر بسائے ہیں حاکموں نے یہاں
حضور ﷺ ان کو مدینہ دکھا دیا جائے
حضور ﷺ تنگ بہت ہیں سعودیوں سے ہم
حضور ﷺ ان کو حرم سے ہٹا دیا جائے
ندیم بھابھہ
Comments
Post a Comment